ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / فتح کا فتویٰ پروگرام کے خلاف ملک بھر کے مسلمانوں میں ناراضگی؛ جگہ جگہ مظاہرے اور پابندی کا مطالبہ

فتح کا فتویٰ پروگرام کے خلاف ملک بھر کے مسلمانوں میں ناراضگی؛ جگہ جگہ مظاہرے اور پابندی کا مطالبہ

Tue, 21 Feb 2017 00:14:41    S.O. News Service

دیوبند،  ماليركوٹلا 20 فروری (ایس او نیوز/مہدی حسن عینی) ہندوستان کے ایک خانگی نیوز چینل پر چل رہے طارق فتح کے "فتح کا فتویٰ" پروگرام کے خلاف ملک بھر کے مسلمانوں میں ناراضگی بڑھتی جارہی ہے اور اسلامی تاریخ اور قرآن و حدیث کی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے والے اس پروگرام پر پابندی لگانے کے مطالبے کو لے کر جگہ جگہ مظاہرے  کئے جارہے ہیں۔

 تازہ احتجاج آج پیر کو مالیر کوٹلہ میں کیا گیا  جہاں مسلم فیڈریشن آف پنجاب کی جانب سے مالير کوٹلہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کو ایک خانگی چینل پر نشر ہو رہے پروگرام فتح کا فتوی کے خلاف ایک تحریری شکایت دی گئی ہے، جس میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان کے متنازعہ مصنف وصحافی  طارق فتح کو لے کر ایک نیوز چینل محض اپنی ٹی آر پی بڑھانے کے لئے فتح کا فتوی نامی ایک پروگرام چلایا ہے جس میں طارق فتح مسلسل تاریخ کے واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے مذہبی امور پر ناقابل برداشت تبصرے کرکے مسلمانوں اور ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو مجروح کر رہا ہے۔

میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت طارق فتح انجام دے رہا ہے تاکہ ہندوستان میں ہندو مسلم بھائی چارے میں دراڑ ڈالی جا سکے اور ہندوستان کا ماحول خراب کیا جاسکے۔

 مسلم فیڈریشن آف پنجاب نے SP ماليركوٹلا سے مطالبہ کیا ہے کہ طارق فتح اور متعلقہ نیوز چینل کے ذمہ داروں  کے خلاف مذہبی جذبات کو بھڑکانے اور ملک کا ماحول خراب کرنے کی وجہ سے  مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے. اور اس معاملے کی اعلی سطحی تحقیقات کی جائے،تحریر دینے والوں میں مفتی ساجد قاسمی، مبین فارواء، حاجی جمیل اختر ابدالی،  بندو ملک، محمد شوکت، محمد شفیق، زاہد رانا محمد اشرف، عاشق عباس، محمود رانا، محمد طارق، عمران ابدالی، پرویز اختر اور مفتی ثاقب قاسمی سمیت ماليركوٹلا کے معزز لوگ موجود تھے.

خیال رہے کہ پاکستان سے ملک بدر کئے گئے  کینیڈا کے رہائشی طارق فتح جو ان دنوں اپنے پروگرام "فتح کافتوی "کی وجہ سے تنازعات کے گھیرے میں ہیں، ایک نیوز چینل پر چل رہے طارق کے اس پروگرام کے خلاف مسلم کمیونٹی میں ابال بڑھتا جا رہا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو دیوبند میں ہوئے زبردست احتجاج کے بعد جمعہ کی نماز میں جامع مسجد سے اس ضمن میں لوگوں سے اپیل کی گئی تھی، اور اس پروگرام کے خلاف حتی المقدور اقدامات  کا مطالبہ کیا گیا تھا، ساتھ ہی 19 فروری کو دیوبند کوتوالی میں شہر کے علماء اور معززین نے "فتح کا فتوی"پروگرام کے خلاف میمورنڈم پیش کیا تھا۔ پھر 17 فروری کو منگلور روڑکی میں بھی ایک بہت بڑا مظاہرہ ہوا، اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئےمسلم فیڈریشن آف پنجاب کی جانب سے آج پیر کو احتجاج کیا گیا۔

خیال رہے کہ اس پروگرام کے خلاف گزشتہ دنوں دہلی ہائی کورٹ میں ایک پیٹيشن بھی دائر کی گئی تھی جس پر آج عدالت نے متعلقہ نیوز چینل کے وکیل کو پھٹكار لگاتے ہوئے وجہ بتاؤ نوٹس بھی دینے کی خبر ہے۔ وہیں دوسری طرف پچھلے چودہ فروری کو  #BanFatahKaFatwa  کے ٹوئٹر کے ٹرینڈ کے بعد سے طارق فتح گالی گلوج پر اتر آیا ہے. جس سے اس کی اصلیت لوگوں کے سامنے آنے لگی ہے. ساتھ ہی "فتح کا فتوی" کے اسپانسر  کے خلاف بھی ایک آن لائن پیٹيشن ڈالی گئی تھی، جس سے متعلقہ اسپائونسر بیک فٹ پر آگیا ہے اور بہت جلد اسپانسر شپ توڑنے کے قریب ہے.

طارق فتح کو EXPOSE کرنے اور ملک کو فرقہ واریت سے بچانے کی مہم سے منسلک مفتی یاسر ندیم الواجدي، مہدی حسن عیني قاسمی، محمود الرحمان صدیقی قاسمی،سمیع اللہ خان ندوی، افسر علی قاسمی سمیت سینکڑوں نوجوانوں نے سوشل میڈیا اور زمینی سطح پر بڑے پیمانے پر مہم چھیڑ رکھی ہے جس سے طارق فتح اور اس کے چاہنے والوں کے ہوش اڑگئے ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ  بہت جلد اس كميونل پروگرام پر بندش لگے گی۔.


Share: